قیامت کی 28 نشانیاں – رسول اللہ ﷺ کی سچی پیشگوئیاں
1500 سال پہلے نبی کریم ﷺ کی بتائی گئی 28 نشانیاں – جو آج پوری ہو رہی ہیں
اسلام صرف عبادات کا نظام نہیں بلکہ زندگی کے ہر پہلو کے لیے مکمل رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی امت کو فتنوں اور قیامت کی نشانیوں سے بھی آگاہ فرمایا تاکہ لوگ غفلت میں نہ پڑیں اور اپنے ایمان کی حفاظت کریں۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ وہ تمام پیشگوئیاں ایک ایک کر کے پوری ہو رہی ہیں۔
ذیل میں وہ 28 نشانیاں بیان کی جا رہی ہیں جو صحیح احادیث میں موجود ہیں:
---
1. مرد کم اور عورتیں زیادہ ہوں گی
> "قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک علم اٹھا نہ لیا جائے، زلزلے کثرت سے نہ ہوں، زمانہ قریب نہ ہوجائے، فتنہ ظاہر نہ ہو، قتل کثرت سے نہ ہوں اور تمہارے اندر مال بڑھ نہ جائے حتیٰ کہ تمہارے اوپر مال کی فراوانی ہوگی..."
(صحیح بخاری: 1036، صحیح مسلم: 2672)
---
2. قرآن کو گانے کے انداز میں پڑھا جائے گا
> "ایسے لوگ آئیں گے جو قرآن کو گانے کے انداز میں پڑھیں گے..."
(مسند احمد: 23614)
---
3. عورتیں شوہر کے ساتھ کاروبار میں شریک ہوں گی
یہ بھی مال کی محبت کے فتنوں میں سے ہے۔ (اشارہ: جامع ترمذی، کتاب الفتن)
---
4. لوگ اپنے جسم کو مضبوط اور موٹا بنانے میں لگ جائیں گے
دنیا پرستی اور جسمانی بناوٹ پر حد سے زیادہ توجہ ہوگی۔
---
5. نماز سے سکون ختم ہو جائے گا
> "ایسا زمانہ آئے گا کہ مسجدیں آباد ہوں گی مگر ہدایت نہیں ہوگی۔"
(سنن ابن ماجہ: 739)
---
6. سود عام ہو جائے گا
> "ایسا وقت آئے گا جب سود لینے والا، دینے والا، لکھنے والا اور گواہ سب اس گناہ میں برابر ہوں گے۔"
(صحیح بخاری: 2084، صحیح مسلم: 1598)
---
7. منافقت اور ریاکاری بڑھ جائے گی
> "ایسا وقت آئے گا کہ لوگ عبادت کریں گے شہرت کے لیے۔"
(سنن ابن ماجہ: 3989)
---
8. دینی علم کم ہوگا اور فتنے بڑھیں گے
(صحیح بخاری: 80، صحیح مسلم: 2671)
---
9. قرآن روزگار کا ذریعہ بنے گا
> "ایسا وقت آئے گا کہ قرآن پڑھا جائے گا مگر وہ صرف دنیا کے لیے ہوگا۔"
(سنن ابن ماجہ: 215)
---
10. جھوٹ عام ہو جائے گا اور جھوٹی گواہی دی جائے گی
(صحیح بخاری: 2652، صحیح مسلم: 2922)
---
11. صحیح احادیث کا انکار ہوگا
> "میری حدیث تم تک پہنچے گی، مگر کچھ لوگ اسے جھٹلائیں گے..."
(سنن ابن ماجہ: 13)
---
12. دولت بڑھے گی مگر دین کم ہوگا
(صحیح بخاری: 3158)
---
13. صبح مسلمان شام کو کافر اور شام کو مسلمان صبح کو کافر ہوگا
(صحیح مسلم: 118)
---
14. ہر نسل پچھلی نسل سے بدتر ہوگی
(صحیح بخاری: 7068، صحیح مسلم: 2535)
---
15. اسلام پر چلنے والوں کو عجیب سمجھا جائے گا
> "اسلام غریب شروع ہوا اور غریبوں کی طرف لوٹ جائے گا، پس خوشخبری ہے غریبوں کے لیے۔"
(صحیح مسلم: 145)
---
16. قتل و غارت بڑھ جائے گی
(صحیح بخاری: 7068، صحیح مسلم: 157)
---
17. کافر مسلمانوں پر غالب آئیں گے
> "قومیں تم پر ٹوٹ پڑیں گی جیسے کھانے والے دسترخوان پر ٹوٹتے ہیں..."
(سنن ابوداؤد: 4297)
---
18. دین پر عمل آگ کے انگارے کو تھامنے جیسا ہوگا
(جامع ترمذی: 2260)
---
19. گناہ آسان اور عام ہو جائیں گے
(صحیح مسلم: 144)
---
20. امیر لوگ کنجوس ہوں گے
(صحیح مسلم: 1012)
---
21. وقت تیزی سے گزرے گا
(صحیح بخاری: 1036، صحیح مسلم: 157)
---
22. مسلمان کافروں کی نقالی کریں گے
> "تم ضرور اپنے سے پہلے لوگوں کی پیروی کرو گے..."
(صحیح بخاری: 7320، صحیح مسلم: 2669)
---
23. عرب کی زمین سرسبز ہو جائے گی
> "قیامت اس وقت قائم نہ ہوگی جب تک عرب کی زمینیں پھر سے سرسبز و شاداب نہ ہو جائیں۔"
(صحیح مسلم: 157)
---
24. لوگ زکوٰۃ لینے کے باوجود بھی طلب کریں گے
(صحیح مسلم: 1048)
---
25. عورتیں برہنہ لباس پہنیں گی
(صحیح مسلم: 2128)
---
26. زنا عام ہو جائے گا
(صحیح بخاری: 1036، صحیح مسلم: 157)
---
27. دنیا کا علم عام اور دینی جہالت بڑھے گی
(صحیح بخاری: 80)
---
28. موسیقی اور بے حیائی عام ہو گی
(صحیح بخاری: 5590)
---
نتیجہ
یہ تمام نشانیاں اس بات کی دلیل ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی پیشگوئیاں بالکل سچ ہیں۔ آج ہمارا فرض ہے کہ ہم دین کو مضبوطی سے تھامیں اور ان فتنوں سے بچنے کے لیے قرآن و سنت کی روشنی میں زندگی گزاریں۔
.jpeg)
Comments
Post a Comment