عورتوں کے حقوق: اسلام اور مغربی غلط فہمیاں | مشرقی معاشرے میں عورت کی عزت و مقام


 عورتوں کے حقوق: حقیقت اور مغربی غلط فہمیاں


دنیا کے مختلف معاشروں میں عورتوں کے حقوق کے بارے میں الگ الگ تصورات پائے جاتے ہیں۔ مغربی دنیا عموماً یہ سمجھتی ہے کہ مشرقی یا مسلم معاشروں میں عورتوں کو حقوق نہیں دیے جاتے، انہیں گھر کی چار دیواری تک محدود رکھا جاتا ہے، اور ان کی آزادی پر قدغن لگائی جاتی ہے۔ لیکن اگر اس معاملے کو حقیقت کی کسوٹی پر پرکھا جائے تو صورتِ حال بالکل مختلف سامنے آتی ہے۔


یہ بات اپنی جگہ سچ ہے کہ ہر معاشرے میں کمزوریاں اور خرابیاں موجود ہیں، لیکن مجموعی طور پر اسلام اور مسلم معاشروں نے عورت کو وہ مقام دیا ہے جس کا تصور مغرب میں بھی نہیں کیا جا سکتا۔


مغربی معاشرے کا ماڈل: عورت دوہری ذمہ داریوں کا شکار


یورپ اور مغربی دنیا میں عورت کو بظاہر آزادی دی گئی ہے۔ وہ تعلیم حاصل کر سکتی ہے، نوکری کر سکتی ہے، اپنے فیصلے کر سکتی ہے۔ لیکن اس آزادی کی قیمت کیا ہے؟


ایک عام مغربی عورت اٹھارہ سال کی عمر سے لے کر ساٹھ سال تک مسلسل کام کرتی رہتی ہے۔ وہ صبح دفتر جاتی ہے، شام گھر آ کر کھانا پکاتی ہے، صفائی کرتی ہے، اور بچوں کی تربیت بھی کرتی ہے۔ یوں وہ اپنی پوری جوانی اور بڑھاپا معاشی مجبوریوں کی نذر کر دیتی ہے۔


یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ عورت کی خدمت ہے یا اس پر بوجھ ڈالنے کے مترادف؟ کیا عورت کے حقیقی حقوق یہ ہیں کہ وہ ساری زندگی کام کرے، تاکہ اپنا گزارہ کر سکے؟


مشرقی اور اسلامی معاشرہ: عورت بطور رحمت


اب آئیے مسلم معاشروں کی طرف۔ جب کسی گھر میں بیٹی پیدا ہوتی ہے تو والدین اسے "رحمت" سمجھ کر خوشی مناتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:


> "جس نے دو بیٹیوں کی اچھی تربیت کی، وہ قیامت کے دن میرے ساتھ یوں ہوگا۔" (صحیح مسلم)




اسلامی معاشرے میں بیٹی بچپن سے لے کر شادی تک والدین اور بھائیوں کے زیر سایہ رہتی ہے۔ اس کی ضروریات، خواہشات اور تعلیم کا خیال والدین رکھتے ہیں۔ اس کی عزت و عصمت کو ایک قیمتی خزانے کی طرح محفوظ رکھا جاتا ہے۔


جب شادی ہوتی ہے تو اس کی ذمہ داری شوہر پر منتقل ہو جاتی ہے۔ قرآن مجید میں واضح حکم ہے:


> "مرد عورتوں کے قوام (ذمہ دار) ہیں۔" (النساء: 34)




شوہر بیوی کی ضروریات، رہائش، خوراک اور لباس کی ذمہ داری اٹھاتا ہے۔ عورت پر گھر چلانے یا باہر کام کرنے کی کوئی لازمی ذمہ داری عائد نہیں کی جاتی۔


بڑھاپے کا سہارا: اولاد کی خدمت


جب عورت بڑھاپے میں پہنچتی ہے، تو مغربی معاشرے کی طرح اسے اکیلا نہیں چھوڑ دیا جاتا، نہ ہی اولڈ ہوم میں بھیج دیا جاتا ہے۔ مشرقی معاشرے میں بیٹے اور بیٹیاں اسے "جنت" کہہ کر پکارتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:


> "ماں کے قدموں تلے جنت ہے۔"




یہی وجہ ہے کہ ایک بوڑھی ماں اپنی اولاد کے سہارے پر سکون زندگی گزارتی ہے۔ اسے کمانے کی فکر نہیں کرنی پڑتی۔


کیا یہ عورت کو حقوق نہ دینا ہے؟


اب سوال یہ ہے کہ اگر ایک معاشرہ عورت کو بچپن سے بڑھاپے تک تحفظ، عزت، سہولت اور محبت دے، تو کیا یہ اس کے حقوق نہ دینا کہلائے گا؟

کیا یہ عورت کو "گھر میں بند رکھنا" ہے یا حقیقت میں اسے تمام بوجھ سے آزاد رکھنا ہے؟


اسلامی معاشرے میں عورت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کام کرے، تعلیم حاصل کرے، تجارت کرے، لیکن یہ اس کی ذمہ داری نہیں ہے۔ اس پر کوئی دباؤ نہیں ڈالا جاتا۔ اگر وہ چاہے تو اپنے گھر کے سکون میں رہ سکتی ہے اور اگر وہ چاہے تو اپنی صلاحیتوں کو معاشرے میں بروئے کار لا سکتی ہے۔


غلط فہمیاں کیسے پیدا ہوئیں؟


مغربی معاشرے کی غلط فہمی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ عورت کی عزت کو صرف معاشی آزادی سے جوڑتے ہیں۔ ان کے نزدیک عورت کی ترقی کا مطلب ہے کہ وہ مرد کے شانہ بشانہ کما رہی ہو۔

لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ آزادی دراصل ایک معاشی غلامی ہے جس میں عورت دن رات کام کرنے پر مجبور ہے۔


اسلام کا انوکھا توازن


اسلام نے نہ عورت کو معاشی بوجھ بنایا اور نہ اسے مرد کی غلامی میں دھکیلا۔


مرد کو نان و نفقہ، رہائش اور لباس کی ذمہ داری دی گئی۔


عورت کو گھر کی ملکہ بنایا گیا۔


اسے وراثت کا حق دیا گیا۔


اس کی عزت و عصمت کی حفاظت کو سب سے بڑی نیکی قرار دیا گیا۔



خاتونِ فرانس کی حیرت


جیسا کہ ایک واقعہ میں ذکر ہے، ایک فرانسیسی خاتون نے پاکستانی نوجوان سے کہا کہ "تم لوگ عورتوں کو حقوق نہیں دیتے۔" لیکن جب نوجوان نے اسے بتایا کہ ہمارے ہاں عورت کو زندگی کے ہر مرحلے پر تحفظ اور سہولت حاصل ہے تو وہ حیرت میں ڈوب گئی۔ اس نے سوچا بھی نہ تھا کہ کوئی ایسا معاشرہ بھی ہو سکتا ہے جہاں عورت کو بچپن سے بڑھاپے تک اتنی عزت دی جاتی ہے۔


یہی وہ فرق ہے جو مغربی دنیا سمجھنے میں ناکام ہے۔


نتیجہ


اسلامی معاشرہ عورت کو صرف ایک "ورکر" یا "کماؤ مشین" نہیں بناتا بلکہ اسے رحمت، عزت اور خاندان کا ستون سمجھتا ہے۔ ہماری خواتین کو چاہیے کہ وہ مغرب کے پروپیگنڈے کا شکار نہ ہوں۔ اسلام نے جو حقوق دیے ہیں وہ دنیا کا کوئی نظام نہیں دے سکتا۔


لہذا عورتیں اس غلط فہمی میں نہ رہیں کہ انہیں حق نہیں مل رہا۔ حقیقت یہ ہے کہ سب سے زیادہ عزت، سب سے زیادہ تحفظ اور سب سے زیادہ محبت اسلامی معاشرے میں ہی میسر ہے۔


Comments

Popular posts from this blog

اولاد کی تربیت کا سنتِ نبوی ﷺ پر مبنی بہترین طریقہ — بچوں کی کردار سازی کے لازوال اسلامی اصول

"گاؤں کی سادہ زندگی اور پرانے وقتوں کی یادیں | بچپن، خلوص اور دیہی ماحول کا حسن" "Simple village life and memories of old times | Childhood, sincerity and the beauty of the rural environment" --- ---

اسلام کیا ہے؟ اہمیت اور فضیلت