دعا کا سلیقہ اور طاقتوروں کی آزمائش – سبق آموز کہانی
دعا کا سلیقہ اور طاقتوروں کی آزمائش
ایک گاؤں میں ایک چیتا اکثر کمزوروں کی جھونپڑیوں سے معصوم بچوں کو اٹھا کر لے جاتا۔
گاؤں کے طاقتور لوگ کمزوروں کی مالی مدد کرتے، ان کی مدد کو بڑھا چڑھا کر دکھاتے، اور عبادت گاہوں میں اجتماعی دعاؤں کا اہتمام بھی کرتے۔
لیکن جب بھی ان سے پوچھا جاتا کہ چیتے کو پکڑنے کی کوشش کیوں نہیں کرتے تو جواب یہی ملتا:
"یہ ہمارے گناہوں کی سزا ہے، دعا کریں اللہ ہم پر رحم فرمائے۔"
کمزوروں کی بے بسی
کمزور لوگوں کو یہی سکھایا گیا کہ اپنے گناہوں سے توبہ کریں اور دعا کریں کہ چیتا مر جائے یا گاؤں سے چلا جائے۔
مگر دعائیں قبول نہ ہوئیں۔ چیتے کو آسان شکار کی عادت لگ چکی تھی۔
ایک مختلف دعا
پھر ایک دن ایسا ہوا کہ چیتا اس کمزور کا بچہ اٹھا لے گیا، جسے اللہ نے دعا کا سلیقہ سکھایا تھا۔
اس نے روتے ہوئے کہا:
"اے اللہ! میں تجھ سے چیتے کے مرنے کی دعا نہیں کرتا۔ کیونکہ اگر تو چاہتا تو ایسا درندہ پیدا ہی نہ کرتا۔ میں یہ دعا کرتا ہوں کہ جن کو تو نے طاقت اور دولت دی ہے، وہ بھی اسی درد کا شکار ہوں تاکہ ان پر بھی وہی دکھ گزرے جو مجھ پر گزرا ہے۔"
طاقتور کا امتحان
اگلی صبح خبر ملی کہ گاؤں کے سب سے طاقتور شخص کا بچہ بھی چیتا اٹھا کر لے گیا ہے۔
اب طاقتور جاگ گئے۔
اسلحہ، شکاری کتے، گاڑیاں سب نکل پڑیں۔
چیتے کو ڈھونڈا گیا، مار دیا گیا اور گاؤں کے بیچوں بیچ اس کی لاش کو لٹکا کر گولیاں برسائی گئیں۔
اس دن کے بعد گاؤں کے کسی کمزور کا بچہ چیتے کا شکار نہ بنا۔
طاقتور کی یادگار
وقت گزرا، اور گاؤں کے داخلی راستے پر ایک یادگار تعمیر ہوئی۔
اس پر لکھا گیا:
"یہ وہ شہید ہے جس کے خون کی برکت سے گاؤں والوں کو چیتے سے نجات ملی۔"
اب لوگ دور دور سے آتے ہیں اور طاقتور کے بچے کی ماں سے دعائیں کرواتے ہیں۔
اصل سبق
حالانکہ دعا وہ تھی جو ایک کمزور انسان نے مانگی تھی۔
اصل سبق یہ ہے کہ دعا کا سلیقہ طاقت سے نہیں، دل کی سچائی سے آتا ہے۔
آج کا پیغام
آج ہمارے ملک میں بھی سیلاب کمزوروں کے گھروں کو بہا لے جاتا ہے۔
طاقتور لوگ صرف راشن بانٹتے ہیں، دیگیں پکواتے ہیں، تصویریں کھنچواتے ہیں، مگر ڈیم نہیں بناتے۔
شاید ڈیم تب ہی بنیں گے جب ان طاقتوروں کا اپنا بچہ سیلاب میں بہہ جائے گا۔
آئیے!
ہم دعا کرنا سیکھیں کہ اللہ ایسے طاقتوروں کو بھی اسی امتحان میں ڈالے تاکہ وہ اپنی اصل ذمہ داری ادا کریں، نہ کہ صرف تصویریں بنوا کر دکھاوا کریں۔
---
📌 یہ بلاگ اس کہانی کے ذریعے ایک علامتی حقیقت کو اجاگر کرتا ہے:
طاقت اور دولت کے ساتھ اصل امتحان ذمہ داری کا ہے۔

Comments
Post a Comment