"سقراط اور کمہار کی کہانی: خالق کی بہترین تخلیق سے سبق"
خالق کی تخلیق اور سقراط کا سبق
سقراط روزانہ چہل قدمی کے لئے جایا کرتا تھا۔ اس راستے پر ایک کمہار کا گھر تھا جو مٹی کے برتن بنایا کرتا تھا۔ سقراط اکثر اس کے پاس رک کر بیٹھ جاتا اور غور سے برتن بنانے کا عمل دیکھتا۔
ایک دن کمہار نے پوچھا:
"بیٹا! تم روز آ کر مجھے دیکھتے رہتے ہو، آخر دیکھتے کیا ہو؟"
سقراط نے مسکرا کر کہا:
"میں برتن بننے کا عمل دیکھتا ہوں، اس سے میرے ذہن میں کئی سوال پیدا ہوتے ہیں۔"
پہلا سوال: برتن کا خاکہ کہاں بنتا ہے؟
کمہار نے جواب دیا:
"سب سے پہلے اس کا خاکہ میرے ذہن میں بنتا ہے۔"
سقراط خوش ہو کر بولا:
"میں سمجھ گیا! ہر چیز تخلیق سے پہلے خیال میں بنتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم بھی پہلے خالق کے خیال میں موجود تھے، پھر تخلیق ہوئے۔"
---
دوسرا سوال: برتن خوبصورت کیسے بنتا ہے؟
کمہار نے کہا:
"میں اسے محبت اور خلوص سے بناتا ہوں، اور اپنی پوری صلاحیت استعمال کرتا ہوں تاکہ کمی نہ رہ جائے۔"
سقراط نے سر ہلا کر کہا:
"بالکل اسی طرح خالق نے بھی ہمیں محبت اور خلوص سے بنایا ہے۔"
تیسرا سوال: تمہاری سب سے بڑی خواہش کیا ہے؟
کمہار نے حسرت سے کہا:
"میری خواہش ہے کہ ایسا برتن بناؤں جسے دیکھ کر دنیا عش عش کر اٹھے، اور پھر اس جیسا برتن کبھی نہ بن سکے۔"
یہ سن کر سقراط پر ایک نیا راز کھلا۔ اس نے کہا:
"واہ! خالق ہر انسان کو ایسی منفرد تخلیق بناتا ہے کہ دنیا حیران رہ جائے۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس جیسا کوئی اور دوبارہ کبھی نہیں آئے گا۔"
نتیجہ
انسان کوئی عام وجود نہیں۔ آپ اپنے رب کی یونیک اور بہترین تخلیق ہیں۔
قرآن کہتا ہے: "لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم" (ہم نے انسان کو بہترین سانچے میں ڈھالا)۔
اپنی اصل پہچان کو یاد رکھیں، خود کو فضول مشاغل میں ضائع نہ کریں۔
واپس اپنے خالق کی طرف لوٹ آئیں، وہ آپ کی راہ تک رہا ہے۔ ♥️

Comments
Post a Comment