دھوکہ خود کو بھی تباہ کرتا ہے — ملاوٹ، فریب اور اس کے انجام کی حقیقت


 دھوکہ خود کو بھی تباہ کرتا ہے


اکثر لوگ یہ سوچتے ہیں کہ اگر وہ دوسروں کے ساتھ تھوڑی سی ملاوٹ یا بددیانتی کر لیں تو انہیں کیا نقصان ہوگا۔ لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ زندگی ایک ایسا دائرہ ہے، جو گھوم کر بالآخر انہی تک لوٹ آتا ہے۔


مٹھائی فروش کہتا ہے:

"میں تو مٹھائی کھاتا نہیں، اگر ملاوٹ کر دوں تو مجھے کیا فرق پڑے گا۔"


بیکری کا مالک سوچتا ہے:

"میں تو بسکٹ کھاتا نہیں، خراب انڈے یا باسی آٹا ڈال کر بناؤں تو میرا کیا جائے گا۔"


پھل فروش کا خیال ہوتا ہے:

"میں تو پھل کھاتا نہیں، اگر ان پر کیمیکل چھڑک دوں تو مجھے کیا فرق پڑے گا۔"


مچھلی فروش سوچتا ہے:

"میں تو مچھلی کھاتا نہیں، فارملین ڈال کر بیچنے میں کیا حرج ہے۔"


لیکن دن کے اختتام پر یہی سب ایک دوسرے سے مٹھائی، بسکٹ، پھل اور مچھلی خرید کر اپنے گھروں میں لے جاتے ہیں۔ یوں ہر کوئی سمجھتا ہے کہ اس نے ہوشیاری دکھائی اور زیادہ منافع کما لیا۔ مگر اصل میں یہ سب اپنے ہی گھر کے دسترخوان پر زہر لے جا رہے ہوتے ہیں۔


یہی سب سے بڑی حقیقت ہے کہ:

دھوکہ صرف دوسروں کو نہیں، خود کو بھی تباہ کرتا ہے۔


اگر ہم معاشرے کو بہتر دیکھنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے اپنی نیت، اپنی کمائی اور اپنے کام کو صاف رکھنا ہوگا۔ کیونکہ جو ہم دوسروں کے لیے کرتے ہیں، وہی گھوم کر ہمارے اپنے دروازے پر آتا ہے۔


Comments

Popular posts from this blog

اولاد کی تربیت کا سنتِ نبوی ﷺ پر مبنی بہترین طریقہ — بچوں کی کردار سازی کے لازوال اسلامی اصول

"گاؤں کی سادہ زندگی اور پرانے وقتوں کی یادیں | بچپن، خلوص اور دیہی ماحول کا حسن" "Simple village life and memories of old times | Childhood, sincerity and the beauty of the rural environment" --- ---

اسلام کیا ہے؟ اہمیت اور فضیلت