کیا صرف سیاستدان قصوروار ہیں؟ ہماری معاشرتی برائیوں کی اصل حقیقت
ہم سب مجرم ہیں لیکن کیا سوچا ہم نے اس پر؟
ہماری عادت بن گئی ہے کہ ہر برائی اور ہر خرابی کا ذمہ دار سیاستدانوں کو ٹھہرا دیا جائے۔ کوئی مسئلہ ہو، کوئی ناانصافی ہو، کوئی بدعنوانی ہو تو ہم فوراً کہتے ہیں: "یہ سب سیاستدانوں کی وجہ سے ہے۔" لیکن کیا کبھی ہم نے اپنے گریبان میں جھانکا ہے؟ کیا ہم نے سوچا ہے کہ وہ گناہ اور جرم جو روزمرہ زندگی میں ہم خود کرتے ہیں، ان کا ذمہ دار کون ہے؟
کیا دودھ میں پانی سیاستدان ملاتا ہے؟
صبح سویرے جب دودھ والا آتا ہے اور خالص دودھ کی بجائے پانی ملا دودھ بیچتا ہے، تو کیا یہ کام سیاستدان کرتا ہے؟ نہیں! یہ وہی عام شخص ہے جو ہمارے درمیان رہتا ہے۔
کیا جعلی دوا میڈیکل اسٹور پر سیاستدان بیچتا ہے؟
جب کوئی مریض دوا لینے جاتا ہے اور جعلی یا ناقص دوا اسے دی جاتی ہے، جس سے اس کی جان خطرے میں پڑ جاتی ہے، تو کیا یہ بھی سیاستدان کا جرم ہے؟ ہرگز نہیں! یہ ہماری اپنی بددیانتی ہے۔
کیا ناقص اشیائے خوراک سیاستدان بیچتا ہے؟
بازار میں جائیں تو ہر طرف ملاوٹ زدہ مصالحے، خراب تیل، باسی روٹیاں اور مضر صحت اشیاء نظر آتی ہیں۔ کیا یہ سب سیاستدان بیچتا ہے؟ یہ تو وہی دکاندار ہے جو نماز بھی پڑھتا ہے، روزہ بھی رکھتا ہے، اور بظاہر نیک بھی دکھائی دیتا ہے۔
پڑوسی کا حق کیا سیاستدان مارتا ہے؟
گھر کے ساتھ رہنے والا جب اپنے پڑوسی کو تنگ کرتا ہے، اس کے حقوق غصب کرتا ہے، یا معمولی بات پر جھگڑا کھڑا کر دیتا ہے تو کیا یہ بھی سیاستدان کا قصور ہے؟ یہ تو ہم خود کرتے ہیں۔
---
اصل مسئلہ کہاں ہے؟
سچ تو یہ ہے کہ ہم سب اس معاشرے کے فرد ہیں اور ہم سب ہی اس جرم میں برابر کے شریک ہیں۔ اگر ہم اپنے حصے کی ذمہ داری ادا کریں، ملاوٹ چھوڑ دیں، جھوٹ ترک کر دیں، پڑوسی کا حق ادا کریں، ملازم کے ساتھ انصاف کریں اور اپنے کاروبار میں ایمانداری لائیں، تو یقین کریں کہ یہ معاشرہ خود بخود سدھرنے لگے گا۔
سیاستدان بھی انہی میں سے نکلتے ہیں، اگر معاشرہ ٹھیک ہوگا تو قیادت بھی ٹھیک ہوگی۔ لیکن اگر ہم خود بددیانتی کریں گے تو پھر قیادت بھی بددیانت ہی نکلے گی۔
---
نتیجہ
وقت آگیا ہے کہ ہم دوسروں کو الزام دینے کی بجائے خود اپنے کردار کو سنواریں۔ کیونکہ اصل تبدیلی حکومتوں سے نہیں بلکہ قوموں کے رویوں سے آتی ہے۔ اگر ہم سب اپنے اپنے حصے کا کام ایمانداری اور دیانتداری سے کریں تو یہ معاشرہ ایک بہترین معاشرہ بن سکتا ہے۔
We are all guilty, but have we thought about it?
It has become our habit to blame politicians for every evil and every wrong. Whenever there is a problem, injustice, or corruption, we immediately say: "It is all because of politicians." But have we ever looked into ourselves? Have we thought about who is responsible for the sins and crimes that we ourselves commit in our daily lives?
Does a politician mix water with milk?
When a milkman comes early in the morning and sells milk mixed with water instead of pure milk, is this a politician's job? No! This is the same common man who lives among us.
Does a politician sell fake medicine at a medical store?
When a patient goes to get medicine and is given fake or defective medicine, which puts his life in danger, is this also a politician's crime? Absolutely not! This is our own dishonesty.
Does a politician sell substandard food items?
If you go to the market, you will see adulterated spices, spoiled oil, stale bread and unhealthy items everywhere. Does a politician sell all this? This is the same shopkeeper who also prays, fasts and appears to be a good person.
Does a politician violate the rights of a neighbor?
When a person living next door harasses his neighbor, usurps his rights or starts a fight over a trivial matter, is this also the politician's fault? We do this ourselves.
---
Where is the real problem?
The truth is that we are all members of this society and we are all equally involved in this crime. If we fulfill our share of responsibility, give up adulteration, give up lying, pay our neighbor's right, do justice to the employee and bring honesty to our business, then believe that this society will automatically start improving.
Politicians also emerge from them, if the society is good, then the leadership will also be good. But if we ourselves act dishonestly, then the leadership will also turn out to be dishonest.
---
Conclusion
It is time for us to improve our own character instead of blaming others. Because the real change does not come from governments but from the attitudes of nations. If we all do our part honestly and honestly, this society can become a better society.
Comments
Post a Comment