سونے کی بڑھتی قیمتیں اور مہنگی شادیاں – معاشرتی المیہ اور حل


 سونا، شادی اور فضول رسومات: ایک سنگین سماجی المیہ


شادی ایک پاکیزہ اور بابرکت رشتہ ہے، جو دو انسانوں کو نہ صرف ایک دوسرے کے ساتھ جوڑتا ہے بلکہ دو خاندانوں کو بھی محبت، عزت اور احترام کے رشتے میں پرو دیتا ہے۔ اسلام نے نکاح کو عبادت قرار دیا اور اس کے ذریعے ایک مضبوط اور پر سکون خاندان کی بنیاد رکھی۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم نے شادی جیسے مقدس بندھن کو اپنی خودساختہ رسومات اور دکھاوے کے بوجھ تلے دبا دیا ہے۔


آج کے دور میں شادی ایک ایسا مسئلہ بن چکا ہے جس نے والدین کی نیندیں اڑا دی ہیں۔ خاص طور پر بیٹیوں کے والدین کے لیے یہ عمل کسی کٹھن آزمائش سے کم نہیں رہا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ فضول رسومات، جہیز، مہنگے زیورات اور معاشرتی دکھاوا ہے۔

سونے کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور ان کے اثرات


گزشتہ چند برسوں میں سونے کی قیمتوں نے ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح کو چھو لیا ہے۔ فی تولہ سونا تقریباً تین لاکھ 86 ہزار روپے تک پہنچ چکا ہے۔ یہ صورتحال غریب اور متوسط طبقے کے لیے ناقابل برداشت ہے۔


اب ذرا سوچئے کہ جب شادی کے وقت لڑکی  والوں کی طرف سے چار سے پانچ تولے سونا مانگا جاتا ہے، تو یہ آج کے حساب سے تقریباً پندرہ سے سولہ لاکھ روپے کی خطیر رقم بنتی ہے۔ کیا ہر والدین کے بس کی بات ہے کہ وہ اتنی بڑی رقم صرف اس لیے خرچ کرے کہ معاشرے کی بے جا روایت کو نبھانا ہے؟


یہ رویہ نہ صرف غریب والدین کو قرضوں کے بوجھ تلے دبا دیتا ہے بلکہ کئی خاندان بیٹیوں: بیٹوں  کی شادی میں تاخیر پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ کتنی ہی لڑکیاں صرف اس لیے گھروں میں بیٹھی رہ جاتی ہیں کہ ان کے والدین   جہیز دینے کی استطاعت نہیں رکھتے۔

فضول رسومات اور سماجی دباؤ


ہماری شادیوں میں ایسی بے شمار رسومات رائج ہیں جن کا نہ اسلام سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی عقل و شعور سے۔ لیکن افسوس کہ ہم انہیں اپنے لیے "لازمی" بنا چکے ہیں۔


مہندی اور ڈھولک کی محفلیں: دنوں پر مشتمل تقریبات، موسیقی اور ناچ گانے پر لاکھوں روپے برباد کر دیے جاتے ہیں۔


جہیز کا بوجھ: بیٹی کے والدین کو اپنی زندگی کی ساری جمع پونجی خرچ کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ اگر جہیز کم ہو تو لڑکی کو طعنے سننے پڑتے ہیں۔


بارات اور ولیمہ میں دکھاوا: درجنوں پکوان، قیمتی ہالز اور فضول خرچیاں صرف اس لیے کی جاتی ہیں کہ لوگ کیا کہیں گے۔

یہ تمام رسومات معاشرے میں بے برکتی کا باعث بنتی ہیں۔ والدین قرض لے کر بیٹیوں کی شادی کرتے ہیں، اور یہ قرض سالوں تک ان کے سر پر بوجھ بنے رہتے ہیں۔

اسلام کی تعلیمات: نکاح کو آسان بنائیں


اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جس نے ہر معاملے میں رہنمائی دی ہے۔ شادی کے بارے میں اسلام نے ہمیشہ سادگی کو ترجیح دی ہے۔


رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:


> "سب سے بابرکت نکاح وہ ہے جس میں کم خرچ ہو۔" (مسند احمد)

یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ شادی کو جتنا آسان اور کم خرچ کیا جائے گا، اتنی ہی زیادہ برکت نصیب ہوگی۔


جہیز کا تصور


اسلام میں جہیز دینا نہ کوئی فرض ہے اور نہ ہی سنت۔ لیکن ہمارے معاشرے میں اسے شادی کا لازمی جزو سمجھا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ رسم ہندو معاشرے سے مسلمانوں میں آئی اور آہستہ آہستہ اتنی پھیل گئی کہ آج والدین اپنی بیٹی کی پیدائش کے ساتھ ہی جہیز جمع کرنا شروع کر دیتے ہیں۔


حق مہر کی اہمیت


اسلام نے بیٹی کو جہیز نہیں بلکہ حق مہر دیا ہے، اور یہ حق صرف اور صرف لڑکی کا ہے۔ افسوس کہ ہمارے معاشرے میں حق مہر کو یا تو بہت معمولی رکھا جاتا ہے یا پھر اس پر عمل ہی نہیں ہوتا۔ اگر ہم واقعی اسلامی تعلیمات کو اپنائیں تو جہیز کی بجائے حق مہر کو اہمیت دیں اور وہ بھی لڑکی کی مرضی سے مقرر کریں۔


وراثت: بیٹیوں کا اصل حق


اسلام نے بیٹیوں کو جائیداد اور وراثت میں حصہ دینا لازم قرار دیا ہے۔ لیکن ہمارے معاشرے میں وراثت کے نام پر بیٹیوں کو اکثر محروم رکھا جاتا ہے۔

یہ کتنا بڑا تضاد ہے کہ ہم لاکھوں روپے جہیز پر خرچ کر دیتے ہیں، لیکن وراثت میں ان کا جائز حق دینے سے کتراتے ہیں۔


قرآن میں واضح حکم ہے:


> "اللہ تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں حکم دیتا ہے: بیٹے کے لیے دو بیٹیوں کے برابر حصہ ہے۔" (النساء: 11)

اور فرمایا:


> "مردوں کے لیے اس میں حصہ ہے جو والدین اور قریبی رشتہ دار چھوڑ جائیں، اور عورتوں کے لیے بھی اس میں حصہ ہے جو والدین اور قریبی رشتہ دار چھوڑ جائیں، خواہ وہ مال کم ہو یا زیادہ — یہ حصہ ایک مقررہ فریضہ ہے۔" (النساء: 7)

اگر ہم واقعی اپنی بیٹیوں سے محبت کرتے ہیں تو انہیں ان کا اصل حق یعنی وراثت ضرور دینا چاہیے۔

فضول خرچی اور دکھاوے کی مذمت


اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:


> "بیشک فضول خرچ کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں، اور شیطان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے۔" (بنی اسرائیل: 27)




یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ دکھاوا اور فضول خرچی نہ صرف گناہ ہے بلکہ شیطانی عمل بھی ہے۔

معاشرتی رویوں میں تبدیلی کیسے ممکن ہے؟


یہ بات درست ہے کہ معاشرتی رویے ایک دم تبدیل نہیں ہوتے، لیکن اگر کوئی ایک خاندان ہمت کر کے فضول رسومات ترک کر دے تو دوسرے خاندانوں کے لیے بھی یہ ایک عملی مثال بن سکتا ہے۔


1. شادی کو سادہ رکھیں: چند عزیز و اقارب اور دوستوں کی موجودگی میں نکاح اور ایک سادہ ولیمہ کافی ہے۔



2. سونے اور جہیز کی رسم ختم کریں: اگر بیٹی کو دینا ہی ہے تو تعلیم اور اچھی تربیت سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔



3. حق مہر کو اہمیت دیں: یہ اسلام کا حکم ہے اور لڑکی کا ذاتی حق ہے۔



4. وراثت کا حق دیں: بہنوں اور بیٹیوں کو جائیداد میں حصہ دے کر انصاف قائم کریں۔



5. نوجوانوں کو بیدار کریں: بیٹے اور بیٹیاں دونوں اس بات پر ڈٹ جائیں کہ وہ غیر ضروری رسومات کے بغیر شادی کریں گے۔

مثبت نتائج


اگر ہم سونے اور جہیز جیسی فضول رسومات کو ختم کر دیں تو اس کے بے شمار مثبت اثرات سامنے آئیں گے:


والدین قرضوں سے آزاد ہو جائیں گے۔


بیٹیوں کی شادی میں تاخیر کم ہو گی۔


لڑکے اور لڑکی کے خاندانوں کے درمیان محبت اور اعتماد بڑھے گا۔


اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے سے معاشرے میں برکت اور سکون آئے گا۔


انسانیت اور ہمدردی کا جذبہ پروان چڑھے گا۔


نبی کریم ﷺ کی ہدایات


نبی کریم ﷺ نے فرمایا:


> "لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرو، مشکل نہ ڈالو؛ خوشخبری دو، نفرت نہ دلاؤ۔" (صحیح بخاری و مسلم)




یہ حدیث ہماری رہنمائی کرتی ہے کہ شادیاں آسان کریں، مشکلات نہ بڑھائیں۔


Comments

Popular posts from this blog

اولاد کی تربیت کا سنتِ نبوی ﷺ پر مبنی بہترین طریقہ — بچوں کی کردار سازی کے لازوال اسلامی اصول

"گاؤں کی سادہ زندگی اور پرانے وقتوں کی یادیں | بچپن، خلوص اور دیہی ماحول کا حسن" "Simple village life and memories of old times | Childhood, sincerity and the beauty of the rural environment" --- ---

اسلام کیا ہے؟ اہمیت اور فضیلت