گرمی کی شدت اور بے زبان جانور — انسانیت کا تقاضا
شدید گرمی صرف انسانوں کے لیے ہی آزمائش نہیں ہوتی بلکہ یہ موسم بے زبان جانوروں، پرندوں اور دیگر مخلوقات کے لیے بھی بہت تکلیف دہ ثابت ہوتا ہے۔ جب سورج اپنی پوری شدت کے ساتھ زمین پر آگ برساتا ہے، سڑکیں تپنے لگتی ہیں، درختوں کے سائے کم ہو جاتے ہیں اور پانی کے ذرائع خشک ہونے لگتے ہیں، تو ایسے میں انسان تو اپنے گھروں، کمروں، پنکھوں اور اے سی کا سہارا لے لیتا ہے، مگر وہ جانور جو بول نہیں سکتے، اپنی ضرورت بیان نہیں کر سکتے، وہ خاموشی سے اس گرمی کو برداشت کرتے رہتے ہیں۔ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب انسانیت کا اصل امتحان شروع ہوتا ہے کہ ہم اپنی آسائش کے ساتھ ساتھ اللہ کی دوسری مخلوق کا بھی خیال رکھتے ہیں یا نہیں۔
اسلام ایک ایسا دین ہے جو صرف انسانوں کے حقوق ہی نہیں بلکہ جانوروں کے حقوق کی بھی تعلیم دیتا ہے۔ ہمارے پیارےنبی ؐ نے بے زبان جانوروں کے ساتھ رحم و کرم کا درس دیا۔ ایک حدیث میں آتا ہے کہ ایک عورت صرف اس وجہ سے عذاب میں مبتلا ہوئی کیونکہ اس نے ایک بلی کو قید رکھا، نہ اسے کھانا دیا اور نہ آزاد کیا کہ وہ خود کچھ کھا لیتی۔ اسی طرح ایک شخص کو صرف اس لیے بخش دیا گیا کیونکہ اس نے پیاسے کتے کو پانی پلایا تھا۔ ان واقعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک جانوروں پر رحم کرنا کتنا عظیم عمل ہے۔
آج کے دور میں شہروں کی بڑھتی ہوئی آبادی، درختوں کی کٹائی اور ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے گرمی پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ ایسے میں سڑکوں پر گھومنے والے کتے، بلیاں، پرندے، گائے، بکریاں اور دیگر جانور شدید پیاس اور گرمی کا شکار ہوتے ہیں۔ اکثر ہم دیکھتے ہیں کہ پرندے پانی نہ ملنے کی وجہ سے کمزور ہو جاتے ہیں، جانور سڑکوں کے کنارے ہانپتے رہتے ہیں اور کئی مرتبہ گرمی کی شدت ان کی جان تک لے لیتی ہے۔ یہ منظر صرف افسوس کرنے کے لیے نہیں بلکہ عمل کرنے کے لیے ہے۔
ہم میں سے ہر شخص بہت آسانی سے ان بے زبان مخلوقات کی مدد کر سکتا ہے۔ اگر ہر گھر کے باہر ایک برتن میں صاف پانی رکھ دیا جائے تو بے شمار جانور اور پرندے اپنی پیاس بجھا سکتے ہیں۔ چھتوں، بالکونیوں یا گلی کے کسی محفوظ کونے میں پانی رکھنا ایک چھوٹا سا عمل ہے مگر اس کا اجر بہت بڑا ہے۔ اسی طرح اگر ممکن ہو تو درخت لگانے چاہئیں کیونکہ درخت نہ صرف ماحول کو ٹھنڈا کرتے ہیں بلکہ جانوروں اور پرندوں کو سایہ بھی فراہم کرتے ہیں۔ گرمی میں کسی جانور کو سایہ دار جگہ مل جانا اس کے لیے زندگی کی امید بن سکتا ہے۔
بچوں کو بھی شروع سے یہ تعلیم دینی چاہیے کہ جانوروں پر رحم کرنا انسانیت کی نشانی ہے۔ جب بچے اپنے بڑوں کو پرندوں کے لیے پانی رکھتے، جانوروں کو کھانا دیتے اور ان کے ساتھ نرمی سے پیش آتے دیکھتے ہیں تو ان کے دل میں بھی رحم اور محبت پیدا ہوتی ہے۔ ایک مہذب معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں انسان صرف اپنے فائدے کے بارے میں نہ سوچے بلکہ دوسروں کے آرام اور زندگی کا بھی خیال رکھے، چاہے وہ انسان ہوں یا جانور۔
اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ جانوروں کی مدد کرنا کوئی بڑا کام نہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ہر نیکی کی قدر ہے۔ ایک پیالہ پانی بھی کسی جان بچانے کا سبب بن سکتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ ایک چھوٹا سا عمل ہماری بخشش کا ذریعہ بن جائے۔ ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ اگر شدید گرمی میں ہمیں پانی نہ ملے تو ہماری کیا حالت ہوگی، تو پھر وہ جانور جو بول بھی نہیں سکتے، ان کی تکلیف کتنی زیادہ ہوگی۔
گرمی کے دنوں میں خاص طور پر پرندوں کے لیے پانی رکھنا بے حد ضروری ہے۔ چڑیاں، کبوتر، کوے اور دیگر پرندے دور دور تک پانی تلاش کرتے ہیں۔ اگر گھروں کی چھتوں پر یا درختوں کے نیچے مٹی کے برتن میں پانی رکھ دیا جائے تو یہ ان کے لیے بہت بڑی سہولت بن جاتا ہے۔ اسی طرح جانوروں کو مارنے، پتھر پھینکنے یا انہیں تنگ کرنے کے بجائے ان کے ساتھ شفقت کا رویہ اپنانا چاہیے۔ یاد رکھیں، رحم کرنے والوں پر اللہ رحم فرماتا ہے۔
ہمیں اپنی روزمرہ زندگی میں یہ عادت شامل کرنی چاہیے کہ جہاں بھی کسی پیاسے جانور کو دیکھیں، اس کی مدد کریں۔ اگر کوئی زخمی جانور نظر آئے تو ممکنہ حد تک اس کی حفاظت کریں یا متعلقہ اداروں سے رابطہ کریں۔ دنیا میں انسانیت صرف انسانوں کی خدمت کا نام نہیں بلکہ اللہ کی ہر مخلوق کے ساتھ بھلائی کرنے کا نام ہے۔
آج معاشرے کو سب سے زیادہ ضرورت احساس اور رحم دلی کی ہے۔ اگر ہر شخص صرف اپنے گھر کے باہر پانی کا ایک برتن رکھ دے، ایک درخت لگا دے یا کسی جانور کے لیے سایہ کا انتظام کر دے تو ہزاروں بے زبان مخلوقات گرمی کی شدت سے محفوظ رہ سکتی ہیں۔ یہ کام مشکل نہیں، صرف احساس اور نیت کی ضرورت ہے۔
آخر میں ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ یہ جانور اور پرندے بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں۔ ان کی جان بھی قیمتی ہے، ان کی پیاس بھی حقیقی ہے اور ان کی تکلیف بھی دردناک ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دل میں رحم پیدا کریں، اپنے اردگرد موجود بے زبان مخلوق کا خیال رکھیں اور اس شدید گرمی میں ان کے لیے پانی، خوراک اور سایہ کا انتظام کریں۔ یہی حقیقی انسانیت، اسلامی تعلیمات اور نیکی کا راستہ ہے۔

Comments
Post a Comment