موبائل کی کال اور الللّہ کی کال

 موبائل پر جب کال آتی ہے تو موبائل اپنے سارے فنکشن چھوڑ کر کال شو کرتا ہے، اسی طرح جب اللہ کے کال آجائے یعنی اذانِ نماز، تو ہمیں بھی سارے کام چھوڑ کر نماز کی طرف آ جانا چاہیے

آج کا انسان جدید ٹیکنالوجی کے دور میں زندگی گزار رہا ہے۔ موبائل فون ہماری زندگی کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے۔ ہم دن رات موبائل اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔ کسی دوست، رشتہ دار یا اہم شخصیت کی کال آئے تو ہم فوراً اپنا کام چھوڑ کر فون اٹھاتے ہیں۔ چاہے ہم کھانا کھا رہے ہوں، بازار میں ہوں، دفتر میں ہوں یا کسی محفل میں بیٹھے ہوں، جیسے ہی موبائل بجتا ہے ہم فوراً اس کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ کال ہمارے لیے اہم ہے۔

لیکن ذرا سوچیں! جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے اذان کی صورت میں ہمیں بلایا جاتا ہے تو ہمارا رویہ کیسا ہوتا ہے؟ کیا ہم اسی طرح فوراً نماز کی طرف آتے ہیں؟ افسوس کہ اکثر لوگ دنیاوی کاموں میں اتنے مصروف ہو جاتے ہیں کہ اذان سن کر بھی غفلت کا شکار رہتے ہیں۔ حالانکہ اذان دراصل اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک عظیم دعوت ہے، جو انسان کو کامیابی، سکون اور فلاح کی طرف بلاتی ہے۔

نماز اسلام کا سب سے اہم رکن ہے۔ قرآن مجید میں بے شمار مقامات پر نماز قائم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے۔ جو شخص پابندی سے نماز ادا کرتا ہے اس کی زندگی میں سکون، برکت اور نظم پیدا ہو جاتا ہے۔ نماز انسان کو اللہ کے قریب کرتی ہے اور دل کو نور سے بھر دیتی ہے۔

جس طرح موبائل پر اہم کال آنے پر انسان سب کچھ چھوڑ دیتا ہے، اسی طرح مسلمان کو چاہیے کہ اذان سنتے ہی اپنے کام روک دے۔ اگر ہم دنیاوی لوگوں کی بات کو اہم سمجھتے ہیں تو پھر اللہ رب العزت کی پکار کتنی اہم ہونی چاہیے۔ اذان کے الفاظ “حی علی الصلاۃ” اور “حی علی الفلاح” ہمیں کامیابی اور بھلائی کی طرف بلاتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ اصل کامیابی دولت، شہرت یا دنیاوی آسائشوں میں نہیں بلکہ نماز میں ہے۔

آج بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس وقت نہیں۔ کوئی کاروبار میں مصروف ہے، کوئی نوکری میں، کوئی موبائل اور سوشل میڈیا میں کھویا ہوا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ نماز کے لیے وقت نکالنا مشکل نہیں، بلکہ نیت کی کمی ہوتی ہے۔ انسان گھنٹوں موبائل استعمال کر سکتا ہے، فلمیں دیکھ سکتا ہے، دوستوں سے باتیں کر سکتا ہے، لیکن جب نماز کا وقت آتا ہے تو اسے چند منٹ بھی بھاری محسوس ہوتے ہیں۔ یہ غفلت انسان کو اللہ سے دور کر دیتی ہے۔

نماز صرف عبادت ہی نہیں بلکہ انسان کی روحانی غذا بھی ہے۔ جیسے جسم کو زندہ رہنے کے لیے کھانے اور پانی کی ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح روح کو سکون کے لیے نماز کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو شخص نماز سے دور ہو جاتا ہے اس کے دل میں بے چینی، پریشانی اور خالی پن پیدا ہونے لگتا ہے۔ جبکہ نماز پڑھنے والا انسان مشکلات میں بھی مطمئن رہتا ہے کیونکہ اسے یقین ہوتا ہے کہ اللہ اس کے ساتھ ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے نماز کی بہت زیادہ تاکید فرمائی۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن سب سے پہلے نماز کا حساب لیا جائے گا۔ اگر نماز درست ہوئی تو باقی اعمال بھی بہتر ہوں گے، اور اگر نماز خراب ہوئی تو دوسرے اعمال بھی متاثر ہوں گے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز کی اہمیت کتنی زیادہ ہے۔

اذان دراصل اللہ کی رحمت بھری آواز ہے۔ جب مؤذن “اللہ اکبر” کہتا ہے تو گویا اعلان ہوتا ہے کہ اللہ سب سے بڑا ہے۔ دنیا کے سارے کام، تجارت، مصروفیات اور تفریحات اللہ کے حکم کے سامنے چھوٹی ہیں۔ ایک سچا مسلمان وہی ہے جو اللہ کی آواز پر لبیک کہے اور فوراً نماز کے لیے تیار ہو جائے۔

موبائل کی کال چند لمحوں کی بات ہوتی ہے، لیکن اللہ کی کال انسان کی دنیا اور آخرت سنوار دیتی ہے۔ موبائل کی کال ہمیں وقتی فائدہ دے سکتی ہے، مگر نماز انسان کو دائمی کامیابی عطا کرتی ہے۔ جو شخص نماز کا پابند ہو جاتا ہے اس کی زندگی میں نظم و ضبط آ جاتا ہے۔ وہ جھوٹ، بددیانتی اور برے کاموں سے بچنے لگتا ہے۔

آج کے نوجوان خاص طور پر موبائل کے استعمال میں بہت وقت ضائع کرتے ہیں۔ گھنٹوں سوشل میڈیا، گیمز اور ویڈیوز میں گزار دیتے ہیں، لیکن نماز کی طرف توجہ کم ہو گئی ہے۔ اگر نوجوان اپنی زندگی میں نماز کو اہمیت دیں تو ان کی شخصیت بہتر ہو سکتی ہے۔ نماز انسان کو ذمہ دار، بااخلاق اور باکردار بناتی ہے۔

والدین کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کو بچپن سے نماز کی عادت ڈالیں۔ اگر گھر کا ماحول دینی ہوگا تو بچے بھی نماز کی اہمیت سمجھیں گے۔ جب بچے اپنے والدین کو اذان سنتے ہی نماز کی طرف جاتے دیکھیں گے تو وہ بھی یہی عادت اپنائیں گے۔

اسی طرح معاشرے میں بھی نماز کی اہمیت کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ مساجد کو آباد کرنا، بچوں اور نوجوانوں کو مسجد سے جوڑنا، اور نماز کے فضائل بیان کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر ہمارا تعلق اللہ سے مضبوط ہوگا تو ہمارا معاشرہ بھی بہتر ہوگا۔

نماز انسان کو عاجزی سکھاتی ہے۔ جب ایک امیر اور غریب ایک ہی صف میں کھڑے ہوتے ہیں تو یہ اسلام کی خوبصورتی کو ظاہر کرتا ہے۔ نماز بھائی چارے، محبت اور اتحاد کا درس دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی بہت فضیلت بیان کی گئی ہے۔

آخر میں ہمیں یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ جس طرح موبائل کی کال پر ہم فوراً جواب دیتے ہیں، اسی طرح اللہ کی کال یعنی اذان پر بھی فوراً لبیک کہنا چاہیے۔ دنیا کے کام کبھی ختم نہیں ہوں گے، لیکن نماز کا وقت محدود ہے۔ جو شخص نماز کی قدر کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی زندگی میں برکت عطا فرماتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں پانچ وقت کی نماز پابندی کے ساتھ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اذان کی آواز سن کر فوراً مسجد کی طرف جانے والا بنائے، اور ہماری زندگیوں کو نماز کے نور سے روشن فرمائے۔ آمین۔

Comments

Popular posts from this blog

اولاد کی تربیت کا سنتِ نبوی ﷺ پر مبنی بہترین طریقہ — بچوں کی کردار سازی کے لازوال اسلامی اصول

"گاؤں کی سادہ زندگی اور پرانے وقتوں کی یادیں | بچپن، خلوص اور دیہی ماحول کا حسن" "Simple village life and memories of old times | Childhood, sincerity and the beauty of the rural environment" --- ---

اسلام کیا ہے؟ اہمیت اور فضیلت