تنہائی میں حرام کاموں کا ارتکاب – حدیث نبوی کی روشنی میں
🎗️ تنہائی میں حرام کاموں کا ارتکاب – ایک سنگین حقیقت ✍️ انسان کے اعمال کی اصل قدر و قیمت اس کے ظاہر پر نہیں بلکہ اس کے باطن پر ہے۔ بہت سے لوگ ظاہری طور پر نیک اور پرہیزگار نظر آتے ہیں، لیکن تنہائی میں ان کا حال مختلف ہوتا ہے۔ دینِ اسلام نے ہمیں یہ سبق دیا ہے کہ حقیقی تقویٰ وہ ہے جو تنہائی میں بھی ظاہر ہو۔ --- 📖 حدیث نبوی ﷺ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "میں اپنی امت میں ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو قیامت کے دن تہامہ کے پہاڑوں کے برابر نیکیاں لے کر آئیں گے، لیکن اللہ تعالیٰ ان کو فضا میں اڑتے ہوئے ذروں کی طرح بنا دے گا۔" حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! ہمیں ان کا حال بتائیے تاکہ ہم لاعلمی کی وجہ سے ان میں شامل نہ ہو جائیں۔" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "وہ تمہارے ہی بھائی ہیں، تمہاری قوم میں سے ہیں، وہ بھی رات کو قیام کریں گے جیسے تم کرتے ہو، لیکن جب وہ تنہائی میں ہوں گے تو حرام کاموں کا ارتکاب کریں گے۔" 📕 [سنن ابن ماجہ: 4245] --- 🔎 اس حدیث کا پیغام اس حدیث مبارکہ سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ: 1. ظاہری نیکیاں کافی نہیں ہیں...